نواب صدیق حسن خان اورجعلی تصانیف کا الزام

جمشید

وفقہ اللہ
رکن
نواب صدیق حسن خان اورجعلی تصانیف کا الزام​
نواب صدیق حسن خان اہل حدیث حضرات کے مشہور عالم ہیں ۔بہت ساری کتابوں کے مصنف ہیں۔ہندوستان کے اترپردیش کے ایک شہر قنوج سے تعلق رکھتے تھے۔ تلاش معاش میں وہ بھوپال آئے ملکہ بھوپال اس وقت بیوہ تھیں انہوں نے اپنی میرمنشی کے مشورہ سے ان سے نکاح کرلیا۔اس سے ان کو فراغت اوروسعت حاصل ہوئی اورانہیں تصنیف وتالیف کی طرف بالکلیہ متوجہ ہونے کا موقع ملا۔
نواب صدیق حسن خان نے اپنی کتابوں میں علماء متقدمین یہ طنز وتشنیع کی ہے کہ انہوں نے اپنے سے بھی زیادہ سابق علماء کی تلخیص اورنقل کیاہے۔مثلاً وہ الاکسیر فی اصول التفسیر میں قاضی ابوالسعود کی تفسیر کے متعلق لکھتے ہیں۔
ماخذ این تفسیر کشاف وبیضاوی وشروح وحواشی اوست ۔مضامین اینہارا بعبارات رشیق وسبک انیق برط وضبط کلام مودی ساختہ وداد بلاغت دادہ ۔گویاکتاب علم معانی وبیان است مقصود تفسیر دراں کمترتواں یافت
اس تفسیر کے مراجع کشاف ،بیضاوی اوراسی کے شروحات وحواشی ہیں ۔انہی کے مضامین کو عمدہ عبارت اوراچھے طرز سے اداکرکے داد بلاغت دیاہے گویاکہ یہ کتاب علم معانی وبیان کی کتاب ہے اوراس میں تفسیر کا جومقصود ہے وہ کمترپایاجاتاہے۔
اس میں اولاتو انہوں نے تفسیر ابوالسعود پر طنز کیاہے کہ وہ فلاں فلاں کتابوں سے ماخوذ ہے پھر کہاکہ مقصود تفسیر اس میں کم پایاجاتاہے۔اول الذکر بات کا جواب بات میں د یاجائے گا۔پہلے آخر الذکر کا جواب دیاجاتاہے۔
قرآن کریم کی خدمت علماء نے مختلف ذوق اورمنہج کے اعتبار سے کی ہے۔ کسی نے روایت کو لیا۔کسی نے احکام کولیا،کسی نے بلاغت ومعانی پر توجہ کی۔ اس پر یہ الزام دینا کہ اس میں مقصود تفسیر کم پایاجاتاہے وہ تواس وقت درست ہوتاجب کہ مفسر کا یہ دعویٰ ہوتاکہ وہ روایتا اس کی تفسیر بیان کریں گے جیساکہ طبری اورابن کثیر نے کیا۔جب مفسر نے یہ دعویٰ ہی نہیں کیا اورانہوں نے زیادہ زور قرآن کریم میں موجود بلاغت اورمعانی پر دیاہے توپھراس الزام کی کیاتک بنتی ہے۔
جہاں تک اس سوال کاجواب ہے کہ قاضی ابوالسعود نے فلاں فلاں سے اخذ کیاہے تواس کا جواب خود ان کے شاگرد اورنواب صدیق حسن خان پر کئے جانے والے اعتراضات پر جواب دینے والے مولوی ذوالفقار نے قضاء الارب میں دیئے ہیں ۔مولوی ذوالفقاراحمد نواب صدیق حسن کی تفسیر فتح البیان کے متعلق لکھتے ہیں۔
"آٹھ ماہ میں فتح القدیر سے فتح البیان ملخص فرمائی۔پھرمدارک اورخازن سے اس پر زیادتی کی پھر منظور ہوا کہ جمل وغیرہ سے کچھ اورزیادہ ہو"
دیکھاآپ نے ان کے شاگرد کیاکہہ رہے ہیں جو الزام نواب صدیق حسن خان صاحب دوسرے مفسرین کو دے رہے ہیں وہ اس کے خود ہی مرتکب ہورہے ہیں۔اوربات صرف یہیں تک نہیں رہتی۔نواب صدیق حسن خان کی تفسیر فتح البیان فتح القدیر کی تلخیص ٹھہری اورفتح القدیر میں ایک معتدبہ حصہ تفسیر ابوالسعود سے اخذ واستفادہ کاہے۔چنانچہ مولوی ذوالفقار احمد لکھتے ہیں۔
"شیخ شیوخنا علامہ شوکانیؒ نے اپنی تفسیر فتح القدیر میں درایت کی بناء اس ہی (تفسیر ابوالسعود)پر رکھی ہے"(قضاء الارب)
بات صرف اتنی ہی محدود نہیں رہ جاتی ہے اس کے علاوہ نواب صدیق حسن خان صاحب پر کتابوں کے سرقہ کا بھی الزام ہے ۔ جب شاہجہاں بیگم والی بھوپال سے شادی کی تو مالی لحاظ سے خودکفیل ہونے کے بعد انہوں نے چند عالموں کو رکھ لیاان سے کتب لکھوانے لگے اوران کو اپنے نام سے چھپوانے لگے۔اسی طرح انہوں نے دنیا کے کتب خانوں سے نادرونایاب کتب منگواکر ان کو اپنے نام سے شائع کرالیا۔اوریہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں میں متعدد مقامات پر تناقص اورتضاد نظرآتاہے اوربعض باتیں وہ ایسی نقل کردیتے ہیں جس سے لگتاہے کہ انہوں نے خود نہیں لکھاکسی سے لکھوایاہے یامحض کسی دیگر عالم کی کتاب کا ترجمہ کردیاہے۔
اب اس الزام میں کہاں تک صداقت اورواقعیت وحقیقت ہے ہم اس پر کچھ کہنانہیں چاہتے ۔بس کچھ علماء کے بیانات نقل کردیتے ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے پہلا نام جنہوں نے یہ الزام نواب صدیق حسن خان پر لگایاہے وہ ایک مستشرق کاہے۔ہم اس کی عبارت نقل کرناچاہیں گے۔
اصلہ من عوام الناس الانہ توصل الی مکہ(الصحیح الملکۃ)بھوپال فی اقلیم الدکان فی الھند وتزوج بھاوتسمی نائبا عنھا فعند مااغتنی بالمال جمع الیہ العلماء وارسل فابتاع الکتب خط الید من کل جھۃ وجمع مکتبۃ کبیرۃ وکلف من حولہ من العلماء بالتالیف ثم اخذ مصنفاتھم ونسبھالنفسہ بل کان یختار الکتب القدیمۃ التی لم تکن منھاسوی النسخۃ الواحدۃ ویغیرالعنوان ویبدلہ باسم اخر ویضع علی الصحیفۃ الاولی اسمہ مع القاب الفخر۔"اکتفاء القنوع بماھو مطبوع) ادوارد فان دایک( صفحہ327
وہ عام لوگوں میں سے تھے مگر انہوں نے ملکہ بھوپال تک رسائی حاصل کی ملکہ بھوپال نے ان سے شادی کرلی اورانکو اپنانائب بنایا۔جب وہ مال کی جانب سے بے فکر ہوگئے توانہوں نے علماء کو اپنے پاس جمع کیااورکتابوں کے قلمی نسخے پوری دنیا سے منگائے اوراس طرح ایک بڑاکتب خانہ جمع کرلیا۔انہوں نے اپنے( ملازم) علماءکوتالیف کی ذمہ داری سونپی پھر ان علماء کی تالیف کردہ کتب کو اپنی جانب منسوب کرلیا۔ایسابھی ہواکہ انہوں نے قدیم کتابوں کے جس کے صرف ایک ہی نسخہ ہو اس میں عنوان اورنام کی تبدیلی کردی اورصفحہ اولیٰ پر مصنف کی حیثیت سے اپنانام فخریہ القاب کے ساتھ دے دیا۔
مستشرق ایڈورڈ فین ڈیک کی یہ بات کسی حاشیہ آرائی اوروضاحت کی مطلوب نہیں ہے۔انہوں نے صاف اورسیدھے طورپر یہ بات کہی ہے کہ نواب صدیق حسن خان صاحب علماء کو ملازم رکھ کر ان سے کتابیں تصنیف کرواتے اورپھر ان کو اپنی نام سے چھپواتے یاخوداس کے مصنف بن بیٹھتے اوروہ قلمی نسخے جودنیابھر میں صرف ایک ہی ہوں ان کے بھی نام اورعنوان بدل کر مصنف کی حیثیت پہلے صفحہ پر اپنانام لکھواتے تھے۔
اس الزام کی تائید مولانا قاضی عبدالصمدصارم کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔قاضی عبدالصمد صارم صاحب حیدرآباد میں پلے بڑھے اورعلوم دینیہ بڑی کدوکاوش سے حاصل کیا اوراس میں نام کمایا ۔وہ کئی کتابوں کے مصنف اورمولف رہے ہیں۔ان کے اعلیٰ علمی استعداد کی بین مثال اورشاہد عدل ان کی کتابیں تاریخ القرآن اورتاریخ التفسیر اورتاریخ الحدیث ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نےاوربھی دوسری کتابیں لکھیں جس میں سے سودیشی اردو،ضروری کہانیاں،محمود اورفردوسی،الدرالمکنون فی تفسیر سورۃ الماعون قابل ذکر ہیں۔
میرے سامنے اس وقت تاریخ التفسیر ہے جو پاکستان کے میرمحمد کتب خانہ آرام باغ کراچی سے1355میں شائع ہواہے۔اس میں وہ مفسرین کے ضمن میں نواب صدیق حسن خان کی تفسیر ذکر کرنے کے بعد ان پر اعتراضات نقل کرتے ہیں کہ وہ خود تو دوسرے اجلہ مصنفین کو الزام دیتے ہیں کہ وہ دوسری اورماقبل کی کتابوں سے نقل وتلخیص کرتے ہیں لیکن خود ان کا اپناحال اس سے بھی زیادہ براہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔
دوسرااعتراض یہ ہے کہ نواب صاحب نے مختلف شہروں سے علماء کو طلب کرکے جمع کرلیاتھا اوران سے تصنیف وتالیف کراکر اپنے اوراپنے فرزند مولوی نورالحسن کان کے نام سے شائع کراتے تھے۔والد ماجد(قاضی عبدالصمد صارم صاحب)عرصہ تک بھوپال میں مقیم رہے وہ بھی ایساہی فرماتے تھے اوربعض علماء ثقات سے بھی ایساہی سناہے۔یہ اعتراض نواب صاحب پر ان کی نزدگی میں بھی ان کے معاصرین نے کیاتھا،نواب صاحب خود اس کا اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔اس کے علاوہ ہربڑے سے بڑے اورچھوٹے سے چھوٹے مصنف کا ایک خاص رنگ ہوتاتھا۔اس کی جھلک اس کی تصنیف میں ہوتی ہے نواب صاحب کی اکثر تصانیف کا رنگ ایک دوسرے سے نہیں ملتا۔ ۔(تاریخ التفسیر ص36)
قاضی عبدالصمدصارم نے ایک بات بڑے پتہ کی نقل کی ہے کہ ہرمصنف کا اپناخاص اسلوب اورطرز تحریر ہوتاہے جو اس کی ہرکتاب میں چاہے وہ جس موضوع پر نمایاں نظرآئے گا۔
اس کی مثال لیجئے۔علامہ شبلی کی تحریر چاہے وہ شعرالعجم اورشعروادب کے متعلق ہو یاتحقیق کے قبیل سے ہو ان کی ہرتحریر اپنے اندر شگفتگی اوردلآویزی لئے ہوئے ہے۔ انہی کے شاگرد علامہ سید سلیمان ندوی نے بھی شعروادب پر بھی لکھاہے اورداد تحقیق بھی دی ہے۔ ان تحریر نسبتا غیرشگفتہ اورسنجیدہ ہیں ۔
یہ اسلوب کا فرق ہوتاہے ۔علامہ سید سلیمان ندوی اورمولاناابوالاعلیٰ کی تحریر کے درمیان آسانی سے فرق ہوسکتاہے۔مولاناابوالاعلیٰ مودودی اورمولانا مناظراحسن گیلانی کا طرز اسلوب نہایت آسانی سے پہچاناجاسکتاہے لیکن نواب صدیق حسن خان صاحب کی مختلف کتابوں میں مختلف رنگ نظرآتاہے اب یاتو انجم مانپوری کے ڈرامہ میر کلو کی طرح موصوف ہفت قلم تھے یاپھربات وہی ہے جو کہ قاضی عبدالصمدصارم صاحب کہہ رہے ہیں۔
مختلف کتابوں میں مختلف اسلوب ہونے کا ذکر مشہور محقق شیخ محمد عوامہ نے بھی مصنف ابن ابی شیبہ کے مقدمہ میں شیخ محمد عابدسندی کے نسخہ مصنف ابن ابی شیبہ پر کلام کرتے ہوئے کیا ہے۔
شیخ محمد عوامہ لکھتے ہیں۔
ان میں غرائب الدنیا وعجائب الدھر ان ینسب الی صدیق حسن خان تالیف عشرات الکتب وھو لایدری مافیھا،بدلیل مایوجد فیھا من التناقض فی المشرب والوجھۃ ،وماتمکن من ھذاالتزویر الالانہ زوج ملکہ بھوبال! فمثلہ لایجوز ان یجعل حکماعلی الائمٰۃ العظام مثل الشیخ محمد عابد السندی،وکان کتاب ابجد العلوم کلہ اورھذالقدر منہ قد عھد صدیق حسن خان بتالیفہ الی احد المنحرفین عن المذہب الحنفی والحنفیۃ فکتب ماکتب،والتاریخ یفضح ولایرحم(مصنف ابن ابی شیبہ ،تحقیق شیخ محمدعوامہ جلد اول ص29)
دنیا کے عجائبات اورزمانہ کی نیرنگیوں مین سے یہ بھی ہے کہ صدیق حسن خان کی جانب دسیوں کتابیں منسوب کی جائیں اور وہ یہ بھی نہ جانتاہو کہ اس میں کیاہے اس کی دلیل یہ ہے کہ مختلف کتابوں میں مضمون اورمشرب کے اعتبار سے بہت تضادپایاجاتاہے۔اوران کا یہ مکر صرف اس لئے چل پایاکہ وہ بھوپال کی ملکہ کے شوہر تھے۔ تونواب صدیق حسن خان جیسے لوگوں کو ائمہ عظام مثلا شیخ محمد عابد سندی پر حکم بناناجائز نہیں ہے اورکتاب ابجد العلوم کا پوراحصہ یاشیخ محمد عابد سندی کے ترجمہ کا حصہ شاید نواب صدیق حسن خان نے ایسے شخص کے سپرد کردیاتھاجس کو مذہب حنفی اوراحناف سے خداواسطے کا بیرتھاپس نے جولکھاسولکھا اورتاریخ پورے حقائق کو بے نقاب کردیتی ہے اوررحم نہیں کرتی ہے.
اس تحریر کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم ہرحال مین ثابت کرناچاہ رہے ہیں کہ نواب صاحب دوسروں کی کتابوں پرہاتھ صاف کرتے تھے یادوسروں کی محنت سے خود فائدہ اٹھاتے تھے ۔بلکہ اس تحریر کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس نواب صاحب کے دفاع کیلئے معقول دلائل ہوں تو وہ ان کوسامنے لائے تاکہ میں اورمیرے جیسے کئی دیگر لوگوں کی اصلاح ہوسکے اور وہ اس گمان غلط سے باز آجائیں۔ امید ہے کہ اس تحریر کو مناظرہ بازی کے طورپر نہیں لیاجائے گا اورجواب میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے گا۔
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
جمشید صاحب شکریہ!
مفید معلومات ہیں۔ہماری گزارش ہے ۔معلومات ضرور شیئر کی جائیں۔پر شخصیت کا احترام لازم ہے ۔معتبر حوالوں سے بات کی جائے۔ذاتیات پر بحث سے گریز کیا جائے۔ والسلام
 

جمشید

وفقہ اللہ
رکن
میں نے اس کا پہلے ہی خیال رکھاہے اورکوشش کی ہے کہ ایک بھی جملہ ایسانہ ہو جس سے خان صاحب کی بے احترامی جھلکے. اورخود آخر میں اس تحریر کا مقصد بھی بیان کردیاہے.
اس تحریر کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم ہرحال مین ثابت کرناچاہ رہے ہیں کہ نواب صاحب دوسروں کی کتابوں پرہاتھ صاف کرتے تھے یادوسروں کی محنت سے خود فائدہ اٹھاتے تھے ۔بلکہ اس تحریر کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس نواب صاحب کے دفاع کیلئے معقول دلائل ہوں تو وہ ان کوسامنے لائے تاکہ میں اورمیرے جیسے کئی دیگر لوگوں کی اصلاح ہوسکے اور وہ اس گمان غلط سے باز آجائیں۔ امید ہے کہ اس تحریر کو مناظرہ بازی کے طورپر نہیں لیاجائے گا اورجواب میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے گا۔
 
Top