مردہ کے تین جرموں پر عذاب قبر کا سانپ بول اٹھا

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
منتظم اعلی
مردہ کے تین جرموں پر عذاب قبر کا سانپ بول اٹھا​

عہد صدیقی میں ایک شخص فوت ہوا ، جب لوگ اس کا جنازہ پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے دیکھا اس کے کفن کے اندر کوئی چیز حرکت کر رہی ہے ۔ جب کفن کی گرہ کھولی تو دیکھا کہ ایک زہریلا سانپ ہے جو اسے ڈس رہا ہے ، ڈنک ماررہا ہے ۔ لوگوں نے اسے مارنا چاہا ۔ سانپ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا“اے لوگو! تم مجھے کیوں مارتے ہو ، حالانکہ میں اپنے آپ نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آیا ہوں ،اور اسے قیامت تک ڈستا رہوں گا“
لوگوں نے پو چھا “ اے سانپ یہ بتا کہ اس کا جرم کیا تھا ، جس کی وجہ سے اسے یہ ّزاب دیا گیا؟“
سانپ نے بو ل کر کہا “ اس کے تین جرم تھے:
(1) ۔۔۔۔۔ یہ اذان سن کر مسجد نہیں آیا کرتا تھا۔
(2) ۔۔۔۔۔مال کی زکوٰۃ نہیں ادا کیا کرتا تھا۔
(3)۔۔۔۔۔۔علما ء کرام کی بات نہیں سنتا تھا
۔(اللہ کے نا فر مانوں پر عذابات کے عبرتناک واقعات۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو، ساری امت کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے ۔آمین۔
 
Top