مردہ کے تین جرموں پر عذاب قبر کا سانپ بول اٹھا
عہد صدیقی میں ایک شخص فوت ہوا ، جب لوگ اس کا جنازہ پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے دیکھا اس کے کفن کے اندر کوئی چیز حرکت کر رہی ہے ۔ جب کفن کی گرہ کھولی تو دیکھا کہ ایک زہریلا سانپ ہے جو اسے ڈس رہا ہے ، ڈنک ماررہا ہے ۔ لوگوں نے اسے مارنا چاہا ۔ سانپ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا“اے لوگو! تم مجھے کیوں مارتے ہو ، حالانکہ میں اپنے آپ نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آیا ہوں ،اور اسے قیامت تک ڈستا رہوں گا“
لوگوں نے پو چھا “ اے سانپ یہ بتا کہ اس کا جرم کیا تھا ، جس کی وجہ سے اسے یہ ّزاب دیا گیا؟“
سانپ نے بو ل کر کہا “ اس کے تین جرم تھے:
(1) ۔۔۔۔۔ یہ اذان سن کر مسجد نہیں آیا کرتا تھا۔
(2) ۔۔۔۔۔مال کی زکوٰۃ نہیں ادا کیا کرتا تھا۔
(3)۔۔۔۔۔۔علما ء کرام کی بات نہیں سنتا تھا ۔(اللہ کے نا فر مانوں پر عذابات کے عبرتناک واقعات۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو، ساری امت کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے ۔آمین۔