اقوال زریں

تانیہ

وفقہ اللہ
رکن
امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:

• لَو عَقَلَ النَّاسُ وَ تَصَوَّرُوا المَوتَ بِصُورَتِہِ لَخَرَبَتِ الدُّنیَا
اگر لوگ موت کوعقل سے اس کی واقعی شکل کے ساتھ تصور کرتے تو دنیا ویران ہو جاتی ۔
• شُکرُکَ لِنِعمَۃٍ سَالِفَۃٍ یَقتَضِی نِعمَۃً آنِفَۃ
گزشتہ نعمتوں پر شکر کرنا آئندہ نعمتوں کا سبب بنتا ہے
• مَن قَبِلَ عَطٰائَکَ فَقَد اَعانَکَ عَلیٰ الکَرَم
جس نے تمھاری عطاکو قبول کر لیا گویا اس نے کرم کرنے میں تمھاری مدد کی
• اِتَّقُوا ھٰذِہِ الَاھوَائَ اَلَّتِی جَمَاعُھا الضَّلاَلَۃُ وَمِیعٰادُ ھَا النَّار
ان خواہشات نفسانی سے بچو،جو گمراہی اور آتش جہنم کا مجموعہ ہے
• مَن سَرَّہُ اَن یَنسیٰ فِی اَجَلِہِ وَ یَزَادُ فِی رِزقِہِ فَلیَصِلُ رَحِمَہ
جو شخص اپنے موت میں تاخیر چاہتاہو ،اورچاہتا ہوکہ اس کے رزق میں اضافہ ہو تو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے
• اَعجَز النَّاسِ مَن اَعجِزَ عَنِ الدُّعَا
عاجز ترین شخص وہ ہے جو دعا کرنے سے عاجزہو
• یٰا ھٰذَ ا کَف عَن الغَیبَۃ فَاِنَّھٰا اِدام کلَاب النَّار
اے لوگو غیبت کرنے سے پرہیز کرو کیوں کہ یہ جہنمی کتوں کی خوراک ہے
• مَاذَا وَجَدَکَ مَن فَقَدَکَ وَمَا الَّذِی فَقَدَکَ مَن وَجَدَکَ
اس کو کیا ملا جس نے تجھے کھو دیا اور اس نے کیا کھویا جس نے تجھے پا لیا
• لاَ یَکمُلُ العَقَلَ اِلَّا بِاتَّبَاعِ الحَقِّ
حق کی اتباع کے بغیر عقل کامل نہیں ہو تی
• اَلصَنِیعَۃُ مِثلَ وَ اِبِلِ المَطَرِ تَصِیبُ البِرَّ وَ الفَاجِر
نیکیاں اس مسلادھار بارش کے مانند ہیں جو نیکی اور بدی دونوں کو فیض پہنچاتی ہیں
• اَبخَلَ النَّاسِ مَن بَخِلَ بِالسَّلاَم
بخیل ترین انسان وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے
• رُبَّ ذَنبٍ اَحسَنَ مِنَ الِاعتِذَارِ فِیہِ
بعض گنا ہ ایسے ہیں جو معذرت خواہی سے بہتر ہیں

جنابِ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہُ کے فرمودات

٭ سو درہم میں سے اڑھائی درہم غریبوں اور دنیا داروں کی زکوٰۃ ہے اور صدیقوں کی زکوٰۃ تمام مال کا صدقہ کر دیتا ہے ۔
٭ صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے با ادب پیش کرو، کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کا نشان ہے ۔
٭ نہیں حاصل ہوتی دولت ساتھ آرزو کے، نہیں حاصل ہوتی جوانی ساتھ خضاب کے، نہیں حاصل ہوتی صحت ساتھ دواؤں کے ۔
٭ عدل و انصاف ہر ایک سے خوب ہے لیکن خوب تر ہے ۔
٭ گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے مگر گناہ سے بچنا واجب ترین ہے ۔
٭ مجھے نئے کپڑوں میں دفن نہ کیا جائے ! نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق وہ ہیں جو زندہ اور برہنہ ہیں ۔
٭ گلے اور شکوے سے زبان بند رکھو ، راحت نصیب ہو گی ۔
٭ زمانے کی گردش عجیب ہے اور حالت سے غفلت عجیب تر ہے ۔
٭ پر ہیز کرو ، پرہیز ، نفع دیتا ہے عمل کرو ، عمل قبول کیا جا تا ہے ۔
٭ اس دن پر آنسو بہا جو تیری عمر سے کم ہو گیا اور اس میں نیکی نہ تھی ۔
٭ تمہیں اس دن پر رونا چاہئے جو تم نے نیکی کے بغیر گزار دیا ۔
٭ صبر میں کوئی مصیبت نہیں اور رونے دھونے میں سو انقصان کے کچھ فائدہ نہیں ۔
٭ کسی عورت یا بچہ یا اپاہچ کو قتل مت کرنا ۔
٭ درخت میوہ دار کو مت کاٹنا ۔

مہکتی کلیاں

1:۔ دو دفعہ پوچھنا، ایک غلط راہ اختیار کرنے سے بہتر ہے۔

2:. جو تمہارے نصیب میں ہے ، اس پر صبر اور شکر کرو اور جو تمہاری قسمت میں نہیں ، اس کیلئے جستجو مت کرو۔

3:. مرد کا امتحان عورت ہے اور عورت کا امتحان پیسے سے ہوتا ہے۔

4:. زندگی صرف چند دنوں کیلئے ہے اور اچھا نام ہمیشہ کیلئے ہوتا ہے۔

محبت اور دوستی

٭ جن لوگوں کواس بات کی خوشی ہو کہ وہ اللہ اور رسول سے محبت کرتے ہیں یا اللہ اور اس کا رسول ان سے محبت کریں تو انھیں چاہیے کہ جب بات کریں تو سچ بولیں۔( حدیث نبوی)

٭تین چیزیں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہیں ا ول سلام کرنا ، دوم دوسروں کے لیے مجلس میں جگہ خالی کرنا، سوم مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا۔( حضرت عمر فاروق)

٭نہ تمھاری محبت حد سے زیادہ ہو نہ تمھاری نفرت( حضرت عثمان غنی)

٭محبت دور کے لوگوں کو قریب ، عداوت قریب کے لوگوں کو دور کردیتی ہے۔( حضرت علی)

٭ جو مخلوق سے محبت رکھے اس کے دل میں محبت الہیہ کا گزر نہیں ہوسکتا گویا وہ محبت الٰہی کو سمجھتا ہی نہیں۔( حضرت اویس قرنی)

٭اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم کی محبت فقر وفاقہ سے ملی جلی ہوتی ہے۔ (شیح عبدالقادر جیلانی )

٭تکلف کی زیادتی محبت کی کمی کاباعث بن جاتی ہے۔( ا مام غزالی)

٭محبت ایک ایسی چیز ہے جو سیکھنے کے اور کسی کے بتانے کی نہیں ہے۔ (حضرت معروف کرخی)

٭محبت مضبوط دلوں کو کمزوری کی مشق کرواتی ہے۔( افلاطون)

٭جب محبت کامل ہوجاتی ہے تو ادب کی شرط گر جاتی ہے۔(جنید بغدادی)

٭محبت ایثار ہے اس کے لیے جسے دوست جانو، اس چیز کا جسے پسند کرو۔ (حضرت ابو بکر شبلی)

٭جو محبت کا دعویٰ کرے اور محبوب کی سوا کسی اور چیز میں مشغول ہوجائے یا اس چیز کے علاوہ اور چیز طلب کرے وہ تمسخر کرتا ہے۔(حضرت ابو بکر شبلی)

٭زندگی کی ترقی وتنزلی کا انحصار بیوی کی محبت پر ہے۔( نارڈبرلے)

٭محبت کا ایک گھنٹا سو برس کی بے محبت زندگی سے بہتر ہے۔( شیلے)

٭اگر دنیا میں ایک بھی محبت کرنے والا باقی نہ رہے تو آفتاب اپنی حرارت کھو بیٹھے۔(ہٹلر)

٭جس محبت کا تعلق صرف حسن سے ہو وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔( ایرسمس)

٭محبت کرنے والے پر موت حرام ہے۔(علامہ اقبال)

٭سچی محبت ایک نایاب شے ہے لیکن سچی دوستی اس سے بھی نایاب ہے۔

٭ محبت انسان کے اندر ایک شریف جذبے کا نام ہے جسے نکال دیا جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

علم کی باتیں

> دوسروں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے سے بڑی بڑی محبتیں جنم لیتی ہیں۔

> آپ کا ایک لفط زخم بھی لگا سکتا ہے اور مرہم بھی بن سکتا ہے ، اختیار آپ کے پاس ہے۔

> زندگی کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ ہم سے صرف ایک بار روٹھتی ہے۔

> کچھ لوگ خطوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جنہیں بار بار پڑھ کر بھی دل نہیں بھرتا۔

> کچھ لوگ نگاہ کی طرح ہوتے ہیں کہ جو اگر ساتھ ہوں تو اندھیروں میں بھی منزلیں مل جاتی ہیں۔

> کچھ لوگ گھر کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ چاہے کتنا بھی دور کیوں نہ ہوں ، دل ان کی روح میں سمٹ جانے کو بے چین رہتا ہے۔

> سنجیدہ بنو لیکن تلخ مزاج نہیں۔ بہادر بنو مگر جلد باز نہیں۔ حلیم بنو مگر غلامی کی حد تک نہ پہنچو۔ <پیار ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے آگے ہر دیوار ٹکڑے ہو جاتی ہے۔

> پرانا تجربہ نئی تعمیر کی بنیاد ہوتا ہے۔

> صابر بنو مگر کمینہ پن اختیار نہ کرو۔ مستقبل مزاج بنو لیکن ضدی نہ بنو۔ <جب محبت کامل ہو جا? تو ادب کی شرط ختم ہو جاتی ہے۔

> ٹھوکر وہی کھاتا ہے جو راستے کے پتھر نہیں ہٹاتا۔ < معاشرہ پر تمہارا اس سے بڑا احسان اور کوئی نہیں ہوگا کہ تم خود سنور جاو ۔

> ہر عمل کے اندر اس کا انجام یوں چھپا ہوتا ہے جیسے کسی بیچ میں کوئی درخت۔

> ناکامی کے اسباب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں دوسروں میں تلاش کرتا ہے۔

> انسان بہت کچھ تقدیر پر جبکہ تقدیر بہت کچھ انسان پر چھوڑتی ہے

٭جو اللہ تعالیٰ کے کاموں میں لگ جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔

٭مومن کو اتنا علم کافی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔

٭کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت، اور کم سونا عبادت میں شامل ہے۔

٭علم ایک ایسا پودا ہے جسے دل و دماغ کی سرزمین میں لگانے سے عقل کے پھل اگتے ہیں۔

٭عالم کا آرام کرنا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے۔

٭اے مسلمانو! تمہارے لیے رسولِ خدا کی ذاتِ گرامی ایک عمدہ نمونہ ہے۔

٭جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے۔

٭مومن کی زبان دل سے پیچھے رہتی ہے( یعنی بولنے سے پہلے وہ کہنے والی بات پر غور کرلیتا ہے)۔

٭ماں کے بغیر گھر قبرستان معلوم ہوتاہے۔

٭بحران کے وقت کردار بنایا نہیں جاتا بلکہ وہ خودبخود جنم لیتا ہے۔

٭مجھے ایسا انسان کی تلاش ہے جس پر عادات اور خواہشات کی بجائے عقل کی حکمرانی ہو۔

٭مشور ہ لینا بری بات نہیں لیکن کسی مشورے پر غورو فکر کے بغیر عمل کرنا بری بات ہے۔

٭یہ درست ہے کہ ایک مشین پچاس انسانوں جتنا کام کرسکتی ہے۔ لیکن ہزاروں مشینیں آجائیں تب بھی وہ ایک غیر معمولی انسان جتنا کام نہیں کرسکتیں۔

٭عالم کا امتحان اس کے علم کی کثرت سے نہیں ہوتا بلکہ دیکھناچاہیے کہ وہ فتنہ انگیز باتوں سے کیسے بچتاہے۔

٭جس لمحے آپ نے سوچا کہ ہار کی صورت میں کیا کریں گے تو آپ شکست کھا گئے۔

٭اپنی سوچوں کو پانی کے قطروں سے زیادہ شفاف رکھو کیونکہ پانی کے قطروں سے دریا بنتا ہے۔ اور سوچوں سے شخصیت بنتی ہے۔

٭اللہ پر بھروسہ رکھو اللہ ہی بہتر کار سازہے۔

ماں
ماں کی ممتا ایک انمول نعمت

٭ ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ (حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

٭ محبت کی ترجمانی کرنے والی کوئی چیز ہے تووہ پیاری ماں ہے۔ (شیخ سعدی)

٭ ماں کا ایسا پیارہے جوکسی کے سیکھنے اور بتانے کا نہیں۔ (حکیم لقمان)

٭ ہمیشہ ڈروکہ ماں نفرت فریاد سے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے۔ (بوعلی سینا)

٭ ماں کی محبت حقیقت کی آئینہ دار ہے۔ (مولانا حالی )

٭ مجھے پھول اورماں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ (نادرشاہ )

٭ سخت سے سخت دل کوماں کی پرغم آنکھوں سے موم کیا جا سکتا ہے۔ (علامہ اقبال)

٭ میں زندگی کی کتاب میں ماں کے سوا کسی کی تصویر نہیں دیکھتا۔ (وکڑایوگو)

٭ بچے کے لیے سب سے اچھی جگہ ماں کا دل ہے خواہ بچے کی عمر کتنی ہو۔ (شیکسپئر)

٭ دنیا کی بہترین موسیقی ماں کی لوری کی آواز ہے۔ (جان ٹزاویلر)

٭ اس وقت کو یاد کروجب تم مجبورتھے جسم کی مانند تھے اورتمہاری ماں کی نگاہیں تمہیں پیار سے دیکھتی تھیں۔

٭ رب کعبہ کی بعد صرف ماں کی آغوش میں ہی سکون ملتا ہے۔

گود میں جو تیری سر رکھ دیا میں نے محسوس ہوا اس سے بہتر بھی کوئی جنت ہوگی
 
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
ماشا ء اللہ ۔جزاک اللہ۔بہت خوب
 

بلال جٹ

وفقہ اللہ
رکن
نایس تانیہ جی
بہت اچھا لکھا ماشاءاللہ بہت ساری اچھی اچھی باتیں لکھیں ہیں
جزاک اللہ
 
Top