نظم مزدور

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
نظم مزدور
جن کے ہاتھوں نے بنائی ہے''اجنتا کی گپھا''
عزم نے جس کے "ہمالہ" کو بھی پاپوس کیا

جس نے تخلیق کیا مصر کے " اہراموں" کو
خون آشام درندوں کے ان ایوانوں کو

آنکھ کو خیرہ کئے دیتا ہے جو بن جس کا
گل ہی تنہا نہیں ، ممنون ہے گلشن جس کا

جس کے صدقے میں قیامت بنا کھیتی کا شباب
چیر کر سینۂ صحرا، جو اگاتا ہے گلاب

جو پہاڑوں کو بھی کر سکتے ہیں ریزہ ریزہ
جن کی محنت رخِ انجم کا بنی ہے غازہ

جن کے ٹکڑوں سے ہیں مقتل کے دروبام سجے
خسروی چمکی ہے جن سے، شہِ گُل فام سجے

جن سے تیغوں کی جوانی پہ بھی آئی ہے بہار
حسن خنجر کا ہےنیزوں کی جوانی کا نکھار

عارض گل پہ منور کبھی غازے کی طرح
سینۂ کوہ وبیابان میں سبزے کی طرح

پھونک سے اپنی ستاروں کو بجھا سکتے ہیں
اور چاہیں تو کئی چاند اگا سکتے ہیں

"مصحف جبر" کی پڑھنے انھیں آیات دئیے
غم دیئے ، ظلم وستم ، قہر کے سوغات دئیے

بھوک دی، مفلسی، مظلومی کی خلعت بخشی
قہر سہہ جانے کی ، خاموشی کی عادت بخشی

نوچ کر اپنے جواں جسموں کی پُر نور بہار
کب تلک او رکریں گے رُخِ قاتل پہ نثار

روک سکتے نہیں سیلاب کو زندانوں کے در
تیغ بن جائے اگر ہاتھ میں لیں شاخ شجر

اٹھ کھڑے ہوں گے یہ جلاد کی صورت اک دن
دیں گے قاتل کو نہ فر یاد کی مہلت اک دن
 

بے باک

وفقہ اللہ
رکن
RE: نظم مزدو

مزدور کی زندگی پر بہت اچھا لکھا ،
بہت ہی اچھی نظم ہے ،،،، برائے مہربانی مزدور کا لفظ ٹھیک کر دیں ،
 

شرر

وفقہ اللہ
رکن افکارِ قاسمی
RE: نظم مزدو

پسندیدگی کا شکریہ محترمہ
 
Top