حلوے والا

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
اُن کی عادت تھی کہ وہ قرض لے لے کر لوگوں کو کھلایا کرتے تھے۔ اُن کے ذمے بہت زیادہ قرض ہوگیا۔ جب اُن کا آخری وقت آیا تو قرض خواہ اُن کے ارد گرد جمع ہوگئے،اور اپنے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے لگے۔آپ سب کو بٹھنے کا حکم دیتے،اور فرماتے ابھی تمہارا قرض ادا کرتا ہوں۔ وہ کہتے آپ تو مرنے کے قریب ہیں۔ اِس وقت ہمارا قرض کیسے ادا کرینگے۔؟ تھوڑی دیر بعد ایک یتیم حلوائی لڑکا حلوے کی ٹرے لیے آواز لگاتا گزرا۔
"حلوا لے لو! حلوالے لو۔" آپ نے اسے بلوایا اور اس سے سارا حلوہ خرید لیا۔ اور قرض خواہوں سے کہا:"یہ حلوہ کھاؤ۔" چنانچہ ان سب نے حلوا کھالیا۔ اب اس یتیم لڑنے اُن بزرگ سے دام کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا:" تم بھی انہیں کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ یہ بھی میرے قرض خواہ ہیں۔ ایک تم بھی سہی۔" یتیم لڑکا یہ سن کے رونے لگا کہ بیوہ ماں کو جاکر کیا جواب دوں گا۔
تھوڑی دیر بعد ایک رئیس اُن بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور ایک ہزار کا نوٹ پیش خدمت کیا۔ آپ نے فورا سب کا قرض ادا کردیا۔ ایک شخص نے سوال کیا حضرت اس میں کیا حکمت تھی کہ آپ نے مرتے ہوئے بھی ایک یتیم لڑکے سے قرض لیا۔؟
فرمایا: مجھے علم تھاکہ اللہ کی رحمت کو جوش دلانے کے لیے کسی کے رونے کی ضرورت ہے۔ جب تک کوئی دل سے روئے گا نہیں، اللہ کی رحمت جوش میں نہیں آئے گی۔ اور ان سب قرض خواہوں میں کوئی رونے والا نہیں تھا، اس لیے میں نے اس یتیم لڑکے کو رُلانے کی ترکیب کی تھی جو کامیاب رہی ۔ اب تم خود ہی دیکہ لو وہ رویا اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور جھٹ سے روپیہ آگیا۔
ان بزرگ کا نام "احمد" تھا۔
 
Top