تم ہمیں جہنم بھیجنا چاہتے ہو

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
تمام اساتذہ اکرام مہتمم صاحب کے دفتر کے سامنے جمع تھے۔ دفتر کا دروازہ بند تھا۔ اور اندر سے صدرِ جامعہ کی غصہ والی آواز باہر آرہی تھی ۔ شاید وہ کسی پر غصہ ہو رہے تھے۔ صدرِ جامعہ بار بار یہ جملہ دہرا رہے تھے۔
’ّّّّّّّ’ تم ہمیں جہنم بھیجنا چاہتے ہو‘‘
اور یہ جملہ دفتر کے باہر جمع اساتذہ اکرام کے کان سے ٹکرا رہا تھا،تمام اساتذہ تڑپ اُٹھے۔ جب صدرِ جامعہ خاموش ہو جاتے تو جامعہ کے نائب صدر اس جملہ کو دہرانے لگ جاتے۔ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ دونوں شخصیات ناظم مطبخ(لنگر خانہ) پر غصہ ہو رہے تھے۔ در اصل واقعہ کچھ یوں ہواکہ رمضان میں طلباء اور اساتذہ کے لیے باہر سے عمدہ کھانا آتا تھا۔جوکہ طلباء اور اساتذہ کے لیے ناکافی ہوتا۔ اس لیے اُس سالن کے ساتھ مدرسہ کا سالن ملایا جاتا،اور اسی سالن سے بَعِوَضِ قیمت(یہ شخصیات اس سالن کی قیمت ادا کرتی تھیں) سالن ان دونوں شخصیات کے گھر جاتا تھا۔اب ناظم مطبخ(لنگر خانہ) ان دونوں شخصیات کے گھر خالص سالن بھیج دیتااور اُن کے حصہ میں جامعہ کا سادہ سالن نہیں ملاتا تھا۔اور یہ بات ان شخصیات کو ناگوار تھی کہ طلبہ کے حق میں سے اُن کو تو اچھا سالن ملے اور طلبہ ان سے کم درجہ کا سالن کھائیں۔بآلاخر اِن دونوں شخصیات سے سالن کے تناسب کے لحاظ سے جو رقم بنتی تھی اسے فوراً جامعہ میں جمع کروایا۔ اور ناظم مبطخ کو سخت تنبیہ کہ وہ اُن کے لیے جہنم جانے کا سبب نہ بنے۔

یہ واقعہ ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کا ہے۔ اور یہ شخصیات مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ کے فرزند ارجمند ۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی مدظلہ العالی،(صدر جامعہ دارالعلوم کراچی) اور حضرت اقدس جسٹس(ر) مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی ہیں(نائب صدر جامعہ دارالعلوم کراچی) ہیں۔
یہ تھی اِن حضرات کے تقویٰ کے ایک جھلک
 
Last edited by a moderator:

نورمحمد

وفقہ اللہ
رکن
اولئک آبائی فجئنی بمثلهم

کیا عربی فونٹ میں نہیں لکھ سکتے ہم ۔ ۔ عربی عبارت کو ۔ ۔ ۔ اس کا کیا طریقہ ہے ؟ ؟
 
Top