حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کےاسلام لانے کا بیان۔

سیما

وفقہ اللہ
رکن


صحیح بخاری -> کتاب المناقب
حدیث نمبر : 3522

باب : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کےاسلام لانے کا بیان۔​

مجھ سے عمر و بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمن بن مہدی نے ، کہا ہم سے مثنیٰ نے ، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لیے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبر آتی ہے ، میرے لیے خبریں حاصل کرکے لا ۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا ۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہوکر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے ، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کو حکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے ۔ اس پر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی ۔ آخر انہوں نے خود توشہ باندھا ، پانی سے بھرا ہوا ایک پرانا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے ۔ مسجد الحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ کے متعلق پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا ، کچھ رات گزرگئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا آپ میرے گھر چل کر آرام کیجئے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی ۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجد الحرام میں آگئے ۔ یہ دن بھی یونہی گزرگیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے ۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے ۔ علی رضی اللہ عنہ پھروہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا ، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی ، تیسرادن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتاسکتے ہوکہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے ؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کرلو کہ میری راہ نمائی کروگے تومیں تم کوسب کچھ بتادوں گا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کرلیا تو انہوں نے انہیں اپنے خیالات کی خبردی ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا ۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوں جس سے مجھے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو میں کھڑا ہوجاو¿ں گا ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے ۔ اس وقت تم میرا اتنظار مت کرنااور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آجانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں ، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہوجانا ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ، آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اب اپنی قوم غفار میں واپس جاو¿ اور انہیں میرا حال بتاو¿ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہوجائے ( تو پھر ہمارے پاس آجانا ) ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں ان قریشیوں کے مجمع میںپکار کر کلمہ ¿ توحید کا اعلان کروں گا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے واپس وہ مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمداللہ کے رسول ہیں “ یہ سنتے ہی ان پر سارامجمع ٹوٹ پڑا اورسب نے انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹادیا ۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آگئے اور ابوذررضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے انہوںنے کہا افسوس ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے ، اس طرح سے ان سے ان کو بچایا ۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجد الحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا ۔ قوم پھربری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگے ۔ اس دن بھی عباس ان پر اوندھے پڑگئے ۔
 
Top