جا تجھے معاف کیا

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
جا تجھے معاف کیا

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : جس نے تنگ دست مقروض کو مہلت دی یا قرض کی کچھ مقدار معاف کر دی تو قیامت کے دن جس دن کہ اللہ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ،اسے اپنے عرش کا سایہ نصیب فر مئے گا (ترمذی قال: حسن صحیح)

حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص تنگ دست قرضدار کے ساتھ سہولت کا معاملہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی دونوں جہان میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فر مائے گا۔( مسلم وغیرہ)

صحابی مذکور سے یہ حدیث بھی منقول ہے کہ : حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا: کہ ایک شخص نے اپنی زندگی میں کوئی کار خیر نہ کیاتھا ،ہاں وہ ایک کارو باری آدمی تھا اور لوگوں کو ادھار پر سامان ددیدیا کرتا تھا اور جب بھی اپنے غلام کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجتا تو اس سے کہدیتا : دیکھو جتنا آسانی سے مل جائےگا ،لے لینا، ورنہ جانے دینا، شاید اللہ رب العزت بھی قیامت کے ہم سے چشم پوشی برت لے ۔

چنانچہ جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے پو چھا : میاں! تو نے کبھی کوئی نیک کام بھی کیا ہے ؟ عرض کیا نہیں ، ہاں ! بس اتنی بات سی بات ہے کہ میں کاروباری آدمی تھا، اور بندگانِ خدا کو ادھار پر سامان دیدیا کرتا تھا اور جب اپنے غلام کو قرض وصول کر نے کے لئے بھیجتا تو اسے تا کید کر دیتا کہ دیکھو جو آسانی سے وصول ہو جائے گا لے کے چلے آنا اور جہاں زور وزبر دستی کی بات دیکھو، تو چھوڑ دینا، شاید اللہ پاک بھی آخرت میں ہم سے درگزر فر مادے،تو الہ تعالیٰ نے فر مایا :جا، میں نے تجھے معاف کیا ۔( نسأئی شریف)
 
Top