حکایت اس ماں کی جس کا لڑکا پانی میں گر گیا تھا
ایک ماں کا بچہ گہرے پا نی میں گر گیا اور ماں بیچاری مامتا کی ماری تڑپ اٹھی تھی ۔ بچہ حیرانی وپریشانی کے عالم میں ہاتھ پا ؤں مار رہا تھا ۔ پانی اس کی گر دن کو چھو رہا تھا پا نی کا ریلا اس کو آگےہی آگے بہا کر لے جا رہا تھا جب ماں نے دیکھا تو وہ بھی پیچھے پا نی میں کود پڑی اور جلدی سے بچے کو بہتے پا نی میں سے نکال لیا اسے گود میں لیا اور دودھ پلایا
یا رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر آپ ﷺ ماں سے کہیں زیادہ مشفق اور مہر بان ہیں ، میں بھی گناہوں کی ندی میں ڈوبنے لگا ہوں ، مہر بانی فر ما کر مجھے نکال لیجئے میں گناہوں لے گر داب میں حیران وپر یشان ہو کر پھنسا پڑا ہو ں ۔ میری حالت اس بچے کی طرح ہے جو پا نی میں ڈوب چلا ہو ، میں اس پریشانی میں ہا تھ پاؤں ما ر رہا ہوں ۔
اے اپنے بچوں پر شفقت کر نے والے نبی ! مہر بانی فر ما کر غرق ہو نے والے اپنے بچوں کو بچا لیجئے ۔ ہماری اس جان پر رحم کیجئے جو آپ سے دو ر ہو کر جو گہرے پا نی میں ڈوب رہی ہے ۔
اپنی مہر بانی کی پستان سے ہمیں دودھ پلا ئیے اور اپنی مہر بانی کادستر خوان ہمارے آگےسے نہ کھینچئے۔ آپ ﷺ ہر طرح کے وصف اور ادراک سے با لا تر ہیں اور وصف کر نے والے کے وصف سے پا ک ہیں ۔ آپ ﷺ کے مقام عالیہ پر کسی کو دسترس اور رسائی نہیں ہے ہم آپ ﷺ کی خاک کی بھی خاک ہیں ۔ آپ ﷺ کے یار اور اور اصحاب ہی آپ ﷺ کی خاک تھے اور با قی سارا عالم تیری اس خاک کی بھی خاک ہے ۔ جو بھی تیرے اصحاب اور تیرے یا روں کی خاک نہیں ہے وہ تیرے دوستوں کا دشمن ہے ۔ سب سے اول حضرت ابو بکر ؓ اور آخر میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں آپ کے چاروں یا ر صدق وصفا کے کعبہ کے چار رکن ہیں ۔
ایک ان میں سے صدق میں آپ کا ہمراز اور وزیر تھا اور دوسرا عدل وانصاف میں رو شن سورج تھا تیسرا شرم وحیا کا دریا تھا ور چو تھا با ب العلم اور با ب السخاوت تھا ۔
جو کوئی آپ کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہے وہ آپ کے بعددشمنی کا بیج بو تا ہے اور جو دل وجان سے آپ کے آل کا مطیع ہو گیا وہ تیرے ہی راستہ پر صحیح جا رہا ہے ۔ سب سے آخر میں امام مہدی آئیں گے جو آل مرتضیٰ میں سے ہو ں گے ۔یہ تمام ایمان کے رکن اور آلِ مصطفیٰ ہیں ۔ (منطق الطیر )