مؤمن کی فراست

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ایک شخص حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس شخص نے جبہ پہنا ہوا تھااور سر پر عمامہ باندھا ہوا تھا۔ اس شخص کا چہرہ بظاہر منور نظر آرہا تھا،اور خوبصورت بھی تھا،آخر کہنے لگا:
حضرت!مجھے آپ ایک حدیث مبارکہ کا مطلب سمجھا دیجئے۔
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا:کون سی حدیث۔۔۔۔۔۔۔؟
اس شخص نے کہا:حدیث یہ ہے:
’’مؤمن کی فراست سے ڈرو،کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے اس شخص کا چہرہ دیکھااورفرمایا:
’’او نصرانی کے بیٹے!اس کا مطلب یہ ہے تُوکلمہ پڑھ اور مسلمان ہو جا۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
یہ سُن اُس کے پسینے چھوٹ گئے۔اور کہنے لگا:
واقعی میں نصرانی ہوں،میں اس لیے آیا تھا کہ پہلے آپ سے اس کا معنٰی پوچھوں گااور پھر آپ لوگوں کو رسوا کروں گاکہ آپ اتنے بڑے شیخ بنے پھرتے ہیں لیکن اتنا بھی پتہ نہ چلا کہ میں مؤمن ہوں یا نہیں۔اس سے پتا چلا کہ واقعی یہ ایک نعمت ہے جو مؤمن بندے کے دل میں عطاءہوتی ہے،لہٰزا اب میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں۔

(از تقوی کی اہمیت)
 

مولانانورالحسن انور

رکن مجلس العلماء
رکن مجلس العلماء
اس سے پتا چلا کہ واقعی یہ ایک نعمت ہے جو مؤمن بندے کے دل میں عطاءہوتی ہے،لہٰذا اب میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتا ہوں۔
بے شک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت زبردست واقعہ ہے جزاک للہ
 
Last edited by a moderator:
Top