اے عشق ہمیں بر باد نہ کر!

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر،ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم،تو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم تو نہیں،یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر

یوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

جس دن سے ملے ہیں ، دونوں کا سب چین گیا آرام گیا
چہروں سے بہارِ صبح گئی ،آنکھوں سے فروع شام گئی
ہاتھوں سے خوشی کا جام چُھٹا، ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا

غمگین نہ بنا، نا شاد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

وہ راز ہے یہ غم ،آہ جسے پاجائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں آجائے تو کوئی خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا، دل کو یہاں بھا جائے کوئی تو خیر نہیں

ہے ظلم مگر فر یاد نہ کر
اے عشق ہمیں بر باد نہ کر

دنیا کا تماشا دیکھ لیا ، غمگین سی ہے بیتاب سی ہے
امید یہاں ایک وہم سی ہے ،تسکین یہاں ایک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں ، دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر

اے عشق ہمیں بر باد نہ کر


اختر شیر وانی​
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
شکریہ سعدی بھائی
کچھ تکنیکی خرابی کی وجہ سے آپ کے متعلق ہمیں دیر سے پتہ چلا ،معڈرت خواہ ہوں۔الغزالی فیملی خوش آمدید کہتی ہے
اور درخواست کرتی ہے ۔آنجناب تعارف کر دیتے ۔والسلام
 
Top