ہم نے کی سوئمنگ

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
حضرت العلامہ مولانا نورالحسن انور قادری سے ملاقات سے جیسے ہی ہم فارغ ہو ئے۔ تو عصر کے قریب ہمارے محترم بھتیجے جناب قاسم عثمانی صاحب جو ہمارے ہی ہم عمر ہیں ہمارے ہاں آ دھمکے۔ اور لگے ہماری منتیں کرنے کہ جناب کام ہے چلو۔ میں نے کہا کہ نہیں جاؤ جہاں جانا ہےمیں نہیں آوں گا۔ جناب سے چھوٹے بھائی عاصم عثمانی صاحب بھی منتیں فرمانے لگ گئے۔ خیر ہم نے بڑے دل کا ثبوت دیا اور جانے کی حامی بھر لی اور سفر پر روانہ ہو گیا پر معلوم نہیں تھا کہ آگے حال کیا ہوگا۔ خیر انہوں نے گاڑی پر آدھا گھنٹہ لاہور کا مٹر گشت کرایا تاکہ مجھے شک نہ ہو کہ ہم سوئمنگ کرنے جا رہے ہیں۔ خیر کچھ دیر بعد گاڑی ایک جگہ روکی گئی ۔ یہ ایک بڑی سی بلڈنگ تھی باہر نوجوان لڑکے سکول کالج و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ گاڑی پارکنگ میں لگائی گئی بڑے ادب سے ہماری سائٹ والا دروازہ کھولا گیا تو مجھے کچھ شک ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ آج بڑی عزت دی جا رہی ہم بھی کسی شہنشاہ کی طرح گاڑی سے نیچے اُترے ۔ جب ہم نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو محسوس ہوا جو بھی اس بلڈنگ کے اندر سے آرہا ہے وہ ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ نہا کر آیا ہے۔ خیر بڑی صفائی سے ہماری جیبیں خالی گی گئیں اس سے پہلے ہم کچھ پوچھتے تو موبائل وغیرہ سمیت ہر چیز گاڑی میں منتقل ہو کر گاڑی لاک کردی گئی تھی ۔ پہر ہمیں بڑے اعزاز کے ساتھ بلڈنگ کی طرف لے جایا گیا۔ ہم بھی نہ سمجھنے والے انداز میں چل پڑے۔ جیسے ہی اندر داخل ہوئے تو ہجوم نظر آیا ساتھ چھوٹی سی پارک تھی اور ٹکٹ گھر تھا۔ ایک نے جاکر ٹکٹ لی اور دو میرے ساتھ ایسے ہی کھڑے ہو گئے جیسے وہ میرے گارڈ ہوں۔ ٹکٹ لینے کے بعد ہمیں بڑی شان سے اندر لے جایا گیا۔ جیسے ہی اندر داخل ہوا تو ایک سوئمنگ پول نے ہمارے استقبال کیا۔ میرا سانس اُوپر کا اُوپر اور نیچے کا نیچے۔ میرے چھکے چھوٹ گئے کیونکہ آج تک میں نے سوئمنگ نہیں کی تھی ۔ اور مجھے بڑی کراہت تھی اس سے کیونکہ ہر کوئی نہا رہا ہو تا ہے کوئی پیشاب کردیتا ہے اور کوئی کیا۔ خیر کچھ ہی دیر میں ایک گارڈ نمودار ہوا برے پیار سے سوئمنگ کرنے کی دعوت دی ۔ میں نے منع کیا تو ساتھ دوسرا بھی آگیا۔ اور یہاں قمیض پہنے کی اجازت نہیں تھی ہم بڑے شرمندہ ہوئے کہاں پھنس گیا یار۔ خیر ہم پر صاف پانی پھینکا گیا اور پل کی طرف جانے کو کہا گیا اور وہ گارڈ بھی ساتھ ساتھ حیران پریشان پل کی طرف روانہ ہوا کہ کیا ماجرا ہے۔ جب قریب پہنچا تو پانی دیکھا جو 7 فٹ تھا ۔ اب ہمارا قد مبارک 7 فٹ نہیں تھا ۔ ابھی ہم یہی سوچ رہے تھے کیا کریں ۔ یکدم ہم اپنے آپ کو ہوا میں اڑتا ہوا محسوس کیا اور دھڑام سے پانی کے اندر لینڈنگ کر گیا۔ ہمیں چکر محسوس ہوئے یکدم کسی نے ہمیں پکڑا اور اوپر کھینچا تو مین نے سُکھ کا سانس لیا۔ جب پانی سے اوپر آیا تو دیکھا ایک آدمی مسکرا رہا ہے کہنے لگا غوطہ آگیا تھا۔؟ میں نے کہا ہاں اگر انسان کو پتہ نہ ہو کوئی پیچھے سے زور دار دھکا دینے والا ہے اور آگے والا پہلی بار سوئمنگ کرنے آیا ہو تو لگ پتہ جاتا ہے۔ وہ مسکرایا اور کہنے دوستوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے جس نے آپ کو ہوا کی سیر کرائی اور حغواس باختہ کیا وہ آپ کا دوست ہے وہ دیکھو ہم نے پیچھے دیکھا تو قاسم مسکرا رہا تھا۔ اس کے بعد میں کنارے لگ کے کھڑا ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد باہر نکلا ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا ۔ دوبارہ ایک زور سے جھٹکا ملا تو پانی کے اندر اب مین اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ یہاں آیا ہی کیوں پہر ہم نے پانی کے اندر ہی رہنے میں عافیت سمجھی اور سوچا اگر باہر نکلا تو دوبارہ ایک عدد ہوائی سفر کرنا پڑے گا۔ کچھ ہی دیر میں دل بھر گیا اور پانی سے باہر آگیا ۔ اب پانچ منٹ سکون ملا تو سوچا پانی پی لوں جو ساتھ کنٹین سے ملنا تھا ۔ ہم پانی کے لیے جیسے ہی اُٹھے تو جھٹکے سے دوبارہ پانی کی سیر کی ، اب غصہ آگیا اور دو ٹوک الفاط میں کہا چلو اب بہت ہو گیا۔ سب سہم سے گئے اور باہر آگئے ۔ جب گاڑی کی طرف بڑھے تو محسوس کیا سب کانون میں کھپسر پھسر کر رہے ہیں پیچھے دیکھا تو سب سہم گئے۔ اور ادب سے چلنے لگے میں حیران تھا کہ ماجرا کیاہے۔ جلدی سے گاڑی کھولی گئی اور پوچھا گیا کیا کھاؤگے۔ میں آنکھ اٹھائی تو وہ پہر سہم کے پیچھے جاکر ساتھیوں کو کچھ کہنے لگا۔ میں نے چہرے پر ہاتھ مارا شاید کوئی چیز لگی ہو ۔ آگے شیشے میں دیکھا تو ہماری آنکھیں لال سرخ تھیں۔ کیونکہ سوئمنگ کے پانی سے لال ہو گئیں اور انہوں نے سمجھا شاید داؤد کا پارہ چڑھ گیا ۔ ہمیں بھی شرارت سوچھی اور گاڑی سے اترے اور زرا بھاری آواز میں کہا جانا ہے یا نہیں ۔ سب گاڑی میں آگئے اور گاڑی گھر کی جانب روانہ ہوئی ۔ جب گھر پہنچے تو سب پریشان تھے ایک نے بڑی ادب سے پوچھا داؤد کچھ کھا لیتے ہیں ۔ لو جی ہم نے اپنا فرمائشی ٖآڈر جاری کیا۔ اور خوب کھا پیا۔ اور اس کے بعد مسکرایا اور کہا جناب عالی مجھے غصہ نہیں تھا بلکہ پانی کی وجہ سے میری آنکھیں سرخ ہو گی تھی جس کو آپ نے غصہ سمجھا۔ اور میں نے فائدہ اٹھایا اور آپ لوگوں کی جیب خوب ہلکی کی ۔ اللہ اللہ کرکے انہوں نے بھی سکون کا سانس لیا اور میں غسل کرنے کے لیے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
 

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
واقعی آپ کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ۔یارلوگوں نے قربانی دی ہی تھی تو کسی''مخلوط'' سوئمنگ پل میں لے گئے ہوتے،آنکھوں کےساتھ دل ودماغ بھی لال پیتا ہوتا۔اند ر سے آواز ابھرتی۔بدہ ساقیا !آب ِآتش لباس۔
 

پیامبر

وفقہ اللہ
رکن
بہت مزہ آیا ہوگا۔ سوئمنگ پول کے شروع کے تجربات کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
سوئمنگ کی عادت تو تھی لیکن جامعۃ الرشید میں پہلی دفعہ سوئمنگ کے لیے گئے تو پتہ نہیں تھا کہ پول ایک طرف سے زیادہ گہرا اور دوسری طرف سے کم ہے۔ غوطہ مارا تو غلطی سے گہرے پانی میں۔وہ تو بھلا ہو ایک بڑے طالب کا کہ آ دبوچا، اور نکال باہر کیا۔ حالت بری ہوگئی تھی۔
 

محمدداؤدالرحمن علی

خادم
Staff member
منتظم اعلی
جناب ہمارے پاس آیئں ہمارے پاس بھی نہری پانیکا کم گہرا سوئمنگ پول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت آپ کے پاس آوں وہ بھی صرف نہر کے پانے میں نہانے کے لیے۔ اگر نہانا ہی مقصود ہے تو ہمارے گھر سے پانچ منٹ کی مسافت پر مشہور و معروف نہر موجود ہے۔ اگر نہر نہیں تو آدھ گھنٹہ کی مسافت پر دریائے راوی اپنے آب و تاب سے چل رہا ہے۔ تو وہیں جاکر نہ نہالوں قلعہ آنے کا کیا فائدہ؟
 

اویس پراچہ

وفقہ اللہ
رکن
واہ کیا عمدہ تجربہ تھا داؤد بھائی۔:D
ویسے سوئمنگ میرا بہت پسندیدہ کام ہے۔ لیکن جامعہ میں سارے درس نظامی کے دورانیہ میں دو، تین بار ہی موقع ملا ہے۔ ;)
البتہ جامعہ سے "فرار" ہو کر خوب سوئمنگ کی ہے۔
 
Top