سماجی خدمت میں یثرب(مدینہ)کی ایک نرالی مثال:ربیعة النظر بن ابونواز(بدشاہ یمن)جسکا لقب(تبع)تھا؛اس نے اپنے لڑکے سے کہا کہ تم یثرب میں رہ کر وہاں کے علمائے یہود سے اپنے علم کی پیاس کو بجھانا،تاکہ یمن کے اوباش تمہیں جاھل نہ کہیں،یہ کہ کر اپنے لڑکے کو یثرب میں علمائے یہود کے پاس چھوڑ دیا،اتفاق سے اس لڑکے کو کسی نے قتل کردیا،اس کی اطلاع جب بادشاہ (تبع)کو ملی وہ آگ بگولہ ھوگیا،کیوں نہ ہوتاجبکہ وہ ایک طاقت ور بادشاہ تھا،پھر اس نے ایک بڑے لشکر کو لیکر یثرب پہ چڑھائی کی؛اور کئی نوجوانوں کوقتل کردیا،اور بڑی تباھی مچائی،صبح سے شام تک جنگ چلتی رہتی اور لڑائی جاری رہتی؛جب شام ھوجاتی اور لڑائی رک جاتی اور اھل یثرب اور بادشاہ اسکے سپاہی اپنے اپنے پڑاو میں چلے جاتے؛تو یثرب کے لوگ بڑا پکوان کرکے انکی مھمان نوازی کرتے اور کو کھانا بھیجتے اور یہ کہتے کہ یہ لوگ اتنی دور یمن سے جنگ کے لئے آئے ہیں،پتہ نھیں انکے پاس کھانا ہے بھی یا نھیں،لڑائی اپنی جگہ ہے مھمان نوازی اپنی جگہ ہے-
عزیز دوستوں ایسی انسانیت اگر پھرسے پیدا ہوجائے اور مسلمان اپنے آپکو بیدار کرلیں،تو یقینا لوگ اسلام کی طرف کھنچے چلے آئینگے،ہمیں یہ یاد رہنا چاہئے کہ ہم اپنے دین کو لوگوں تک اپنے عبادات کے ذریعہ نہیں پہونچا سکتے اللہ کے نبی علیہ السلام نے40 سال تک سماجی خدمت کی ہے،پھراسلام کو پیش کیا ہے۔
عزیز دوستوں ایسی انسانیت اگر پھرسے پیدا ہوجائے اور مسلمان اپنے آپکو بیدار کرلیں،تو یقینا لوگ اسلام کی طرف کھنچے چلے آئینگے،ہمیں یہ یاد رہنا چاہئے کہ ہم اپنے دین کو لوگوں تک اپنے عبادات کے ذریعہ نہیں پہونچا سکتے اللہ کے نبی علیہ السلام نے40 سال تک سماجی خدمت کی ہے،پھراسلام کو پیش کیا ہے۔
Last edited by a moderator: