مناز ل سلوک

qureshi

وفقہ اللہ
رکن
یہ تحریر فقط ان لوگوں کے لئے جو راہ سلوک کے طالب ہیں ،میری معلومات کے مطابق مجدد الف ثانی ؒ کے بعد یہ دوسری تحریر ہو گئی جو کسی صوفی نے ان مقامات کا ذکر کیا ،شاید زمانے کو آج ضرورت ہے اس لئے ان منازل کی بات کی جا رہی ہے ۔ہمارے معاشرے میں اکثر وہ شیخ طریقت ہیں جو تصوف کی الف ،ب سے واقف نہیں اور مخلوق خدا کو دھوکا دے رہے ہیں ،وہ احباب جو راہ سلوک کے مسافر اور طالب ہیں ذیل کی تحریر سے ان پر کسی حد تک یہ وضاحت ہو جائے گی یہ منازل سلوک کیا ہیں ،اللہ پاک ہمیں اسی طرح کی منازل عطا فرمائیں ۔آمین یہ مضامین میں مختلف رسائل اور کتب سے لیا گیا ہے۔ اس مضامین کی اصل حیات جاوداں میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم
بسم الله الرحمن الرحيم
اس راہ میں ابتداء یا ابجد فنا و بقا ہے۔ مراقبات ِفنا فی اللہ اور بقابااللہ والا اس قابل ہو جاتا ہے کہ راہ ِسلوک پر قدم رکھے۔ آگے کی پہلی منزل سالک المجذوبی ہے جس کی سات منازل ہیں۔ اور ان سات منازل میں تقریباً سوا لاکھ نورانی حجابات ہیں جو سالک کو طے کرنے پڑتے ہیں اور پھر دریائے رحمت عبور کرنے کے بعد پہلے عرش کی منازل شروع ہوتی ہیں۔ پہلے عرش کے اندر تقریباً سوالاکھ منازل ہیں اور یہ شمار حتمی نہیں ہے بلکہ ہم نے اندازہ اسی طرح لگایا تھا
’’میں نے ایک سال پہلے عرش کی منازل شمار کیں تو اوّل سے لے کر سولہ ہزار تک طے کر سکا۔ پھر تین سال اور لگے تب جا کر عرش طے ہوا۔‘‘
یاد رہے کہ جوں جوں روح آگے بڑھتی ہے اس کی قوت اور ر فتار بڑھتی چلی جاتی ہے۔ سو کوئی صاحب حساب کے قاعدوں میں نہ الجھیں بلکہ مجھ بے نوا پر ہی بھروسہ کریں کہ میں نے خدمت میں بیٹھ کر‘ مختلف چیزوں کا جائزہ لے کر حساب جوڑا تھا تو اندازاً سوا لاکھ شمار ہوا تھا۔ ان منازل کے درمیان فاصلہ اس قدر ہے کہ ہر نیچے والی منزل سے اوپر والی منزل اس قدر بلند ہے کہ اگر نگاہ کی جائے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے زمین پر سے کوئی انتہائی دور ستارہ‘ جو معمولی سا ٹمٹماتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب پورے عرش کی اندرونی وسعت کا خیال خود کر لیں کہ سمند عقل یہاں تھک تھک کر گرتا ہے۔
عرش کی تعداد 9 ہے۔
آنکہ آمد نہ فلک معراج ِاو انبیاء واولیاء محتاج ِا ُو​
پہلے اور دوسرے عرش کے درمیان کا فاصلہ عرش اوّل کی موٹائی سے زیادہ ہے۔ ( حکیم الامت سید مرشدی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ پہلے عرش پر تھے انتقال فرمایا عالم برزخ میں اب جس مقام پر موجود ہیں بڑا اعلی مقام ہے جسکے دروازے پر لکھا ہے باب علم۔ )پھر دوسرے عرش کی موٹائی اس فاصلے اور خلا سے زیادہ‘ علیٰ ہذا لقیاس۔ ہر عرش کے بعد خلاء بھی ہے اور اسی نسبت سے خلاء اور عرش کی موٹائی بڑھتی بھی جاتی ہے‘ حتیٰ کہ نویں عرش کی انتہا عالم ِامر کی ابتداء ہے جسے عالم حیرت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ دائرے شروع ہوتے ہیں جن میں سے ایک ایک کی وسعت میں جہان گم ہو سکتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ اوّل تو بے شمار طالبوں کے نزدیک فنا بقا ہی انتہائے سلوک ہے لیکن بعض خوش نصیب جو اس سے آگے چلے‘ سالک المجذوب بمشکل بن پائے۔ ( شاہ اسماعیل شہید ؒ ا سالک المجذوبی کے مقام پر تھے جب آپ شہید ہوئے) پھر عرش کی وسعتوں میں خلق خدا سرگرداں رہی۔ ان میں برصغیر کے ایسے نامور حضرات بھی شامل ہیں جن کے نام اس غرض سے نہیں گنوا سکتا کہ نااہل یہ کہیں گے کہ اپنے آپ کو ان سے اعلیٰ شمار کرتا ہے حالانکہ یہ مقصد ہر گز نہیں۔ میں اپنے آپ کو ان کی خاکِ پا جانتا ہوں‘ پھر وہ اپنی منزل پا گئے اور ہم عالم ابتلاء کے گرداب میں ہیں۔ اللہ ہمیں بعافیت ان کے پاس پہنچائے۔ آمین!
ان دائروں کی تعداد 36 ہے اور ان کی وسعت بے کراں۔ پہلا دائرہ مقام تقرب ہے جس کی پنہائیوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ نوعرش اور دنیا و مافیہا اس کے مقابلہ میں اس طرح ہیں جیسے کسی صحرا میں ایک مندری۔ اس دائرے میں حضرت علی ہجویریؒ اور حضرت مجدد الف ثانی ؒکی وفات ہوئی۔ یہاں سے آگے کے بعض دوائر کی بات حضرت مجدد صاحبؒ نے ارشاد فرمائی ہے مگر وہ سیر نظری ہے جہاں تک ان کی نگاہ نے کام کیا۔
بہرحال چوتھا دائرہ مقامِ تسلیم ہے جہاں مقاماتِ ولایت ِاولیاء کی انتہاء ہے۔ اس دائرے میں ایک ایسی ہستی ملتی ہے جو بھیرہ میں دفن ہے۔ اپنے زمانے کے غوث تھے ظلماً شہید کئے گئے۔ اب ان کے اوپر آبادی اور مکان بنے ہوئے ہیں۔ یہ بے نوا ایک بار کسی کام سے بھیرہ گیا تو ملاقات اور حاضری نصیب ہوئی۔ فرماتے تھے کہ ان مکانوں کے رہنے والے اچھے لوگ نہیں ہیں ان کی عورتیں بدکار ہیں۔ عرض کیا کہ حضرت! نشاندہی ہو جائے تو ممکن ہے کہ لوگ جگہ خالی کر دیں تو فرمایا میں ہر صاحبِ کشف کو بھی اپنی جگہ دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا کہ اگر نشاندہی ہو گئی تو دنیا بھر کے بدکار یہاں جمع ہوں گے۔ اس سے یہ چند بہتر ہیں۔
خیر‘ یہ جملہ ٔ معترضہ تھا‘ مقام تسلیم کے بعد ولایت انبیاء شروع ہوتی ہے جو نبی کو وہبی طور پر حاصل ہوتی ہے اور قبل نبوت بھی حاصل ہوتی ہے جس میں امتی صرف اتباع پیغمبر کی بنا پر باریاب ہوتا ہے ورنہ یہ منازل امتی کے لئے نہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح شاہی محل میں بادشاہ کے ساتھ خدام بھی رہتے ہیں۔
یہاں سے چھ دائرے عبور کرنے کے بعد ساتواں دائرہ مقام ِرضا ہے جس کے آخر میں ایک ایسی ہستی ہے جو سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکے خلیفہ اوّل تھے۔ دائرہ مقامِ رضا سے آگے پانچواں دائرہ حقیقت ِرسالت ہے جس کی ابتداء میں حضرت سیّدنا نذیر علی شا عرش کی تعداد 9 ہے۔
آنکہ آمد نہ فلک معراج ِاو انبیاء واولیاء محتاج ِا ُو
پہلے اور دوسرے عرش کے درمیان کا فاصلہ عرش اوّل کی موٹائی سے زیادہ ہے۔ پھر دوسرے عرش کی موٹائی اس فاصلے اور خلا سے زیادہ‘ علیٰ ہذا لقیاس۔ ہر عرش کے بعد خلاء بھی ہے اور اسی نسبت سے خلاء اور عرش کی موٹائی بڑھتی بھی جاتی ہے‘ حتیٰ کہ نویں عرش کی انتہا عالم ِامر کی ابتداء ہے جسے عالم حیرت بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ دائرے شروع ہوتے ہیں جن میں سے ایک ایک کی وسعت میں جہان گم ہو سکتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ اوّل تو بے شمار طالبوں کے نزدیک فنا بقا ہی انتہائے سلوک ہے لیکن بعض خوش نصیب جو اس سے آگے چلے‘ سالک المجذوب بمشکل بن پائے۔ پھر عرش کی وسعتوں میں خلق خدا سرگرداں رہی۔ ان میں برصغیر کے ایسے نامور حضرات بھی شامل ہیں جن کے نام اس غرض سے نہیں گنوا سکتا کہ نااہل یہ کہیں گے کہ اپنے آپ کو ان سے اعلیٰ شمار کرتا ہے حالانکہ یہ مقصد ہر گز نہیں۔ میں اپنے آپ کو ان کی خاکِ پا جانتا ہوں‘ پھر وہ اپنی منزل پا گئے اور ہم عالم ابتلاء کے گرداب میں ہیں۔ اللہ ہمیں بعافیت ان کے پاس پہنچائے۔ آمین!
ان دائروں کی تعداد 36 ہے اور ان کی وسعت بے کراں۔ پہلا دائرہ مقام تقرب ہے جس کی پنہائیوں کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ نوعرش اور دنیا و مافیہا اس کے مقابلہ میں اس طرح ہیں جیسے کسی صحرا میں ایک مندری۔ اس دائرے میں حضرت علی ہجویریؒ اور حضرت مجدد الف ثانی ؒکی وفات ہوئی۔ یہاں سے آگے کے بعض دوائر کی بات حضرت مجدد صاحبؒ نے ارشاد فرمائی ہے مگر وہ سیر نظری ہے جہاں تک ان کی نگاہ نے کام کیا۔
بہرحال چوتھا دائرہ مقامِ تسلیم ہے جہاں مقاماتِ ولایت ِاولیاء کی انتہاء ہے۔ اس دائرے میں ایک ایسی ہستی ملتی ہے جو بھیرہ میں دفن ہے۔ اپنے زمانے کے غوث تھے ظلماً شہید کئے گئے۔ اب ان کے اوپر آبادی اور مکان بنے ہوئے ہیں۔ یہ بے نوا ایک بار کسی کام سے بھیرہ گیا تو ملاقات اور حاضری نصیب ہوئی۔ فرماتے تھے کہ ان مکانوں کے رہنے والے اچھے لوگ نہیں ہیں ان کی عورتیں بدکار ہیں۔ عرض کیا کہ حضرت! نشاندہی ہو جائے تو ممکن ہے کہ لوگ جگہ خالی کر دیں تو فرمایا میں ہر صاحبِ کشف کو بھی اپنی جگہ دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا کہ اگر نشاندہی ہو گئی تو دنیا بھر کے بدکار یہاں جمع ہوں گے۔ اس سے یہ چند بہتر ہیں۔
خیر‘ یہ جملہ ٔ معترضہ تھا‘ مقام تسلیم کے بعد ولایت انبیاء شروع ہوتی ہے جو نبی کو وہبی طور پر حاصل ہوتی ہے اور قبل نبوت بھی حاصل ہوتی ہے جس میں امتی صرف اتباع پیغمبر کی بنا پر باریاب ہوتا ہے ورنہ یہ منازل امتی کے لئے نہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح شاہی محل میں بادشاہ کے ساتھ خدام بھی رہتے ہیں۔
یہاں سے چھ دائرے عبور کرنے کے بعد ساتواں دائرہ مقام ِرضا ہے جس کے آخر میں ایک ایسی ہستی ہے جو سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکے خلیفہ اوّل تھے۔ دائرہ مقامِ رضا سے آگے پانچواں دائرہ حقیقت ِرسالت ہے جس کی ابتداء میں حضرت سیّدنا نذیر علی شاہ ؒ (ان کا مدفن کشمیر میں ہے اور غیر معروف ہے) کی وفات ہوئی اور اس دائرہ کی انتہاء میں شیخ عبدالقادر جیلانی ؒعالم ِبقا کو سدھارے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین!
اور بے شمار ہستیاں ہوں گی۔ اُمت ِمحمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کو اس گزرگاہ میں نقش ِکف ِپائے حبیب ﷺ پہ بوسے دیتے چودہ سو سال بیت چکے ہیں۔ میں نے صرف ایک دو نام تبرکا ً گنوانے کی جسارت کی ہے۔
آگے چھٹا دائرہ مقام ِافراد ہے جس میں اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ملتے ہیں۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ یہ بہت نازک مقام ہے۔ حضرت مجددؒ نے جب بات کی تو ان پر فتویٰ لگا تھا کہ یہ اپنے آپ کو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل جانتا ہے لیکن یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب نبی ان مقامات سے گزرتا ہے تو بحیثیت نبی کے گزرتا ہے ۔ صحابی گزرتا ہے تو بحیثیت صحابی کے گزرتا ہے اور ولی گزرتا ہے تو ان کا کفش بردار ہو کر۔ ورنہ قرون ثلثہ مشہودلہا بالخیر کا مرتبہ شانِ ولایت کی رسائی سے بالاتر ہے۔ رہی بات فتوؤں کی تو وہ لوگوں کا مزاج بن چکا ہے۔ جب معاملہ عند اللہ درست ہو تو فکر کی بات نہیں۔ ممکن ہے فتویٰ لگانے والے بھی خلوص سے کام لے رہے ہوں مگر حالات کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے معذور ہوں۔ اللہ کریم ہم سب کو ہدایت پر رکھے۔ آمین!
اس سے اگلا دائرہ قطب ِوحدت کا ہے
اگلا مقام دائرہ ٔصدیقیت ہے جس کے بعدبارہ دائرے ہیں قربِ نبوت‘ قرب ِرسالت‘ قرب ِاولوالعزمی‘ قرب ِمحمدیﷺ‘ وصال ِمحمدیﷺ‘ رضائے الٰہی‘ قربِ الٰہی‘ وصالِ الٰہی‘ قرب ِرحمت‘ بحرِرحمت‘ خزانۂ رحمت اور منبعِ رحمت۔ ان کی وسعتیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
قریباً ایک چوتھائی سلوک یہاں طے ہو جاتا ہے۔ میری ناقص رائے میں جو اصحاب یہ لکھ دیتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے سلوک مکمل طے کر لیا شاید وہ کچھ اندازہ کر سکیں۔
اس سے آگے حجابات ِالوہیت ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔
نوٹ: دائرۂ قربِ عبودیت سے آگے منازلِنبوت شروع ہوتے ہیں نہ ولایت ِنبوت ۔ ولایت ِنبوت میں امتی جا سکتا ہے مگر منازل ِنبوت میں اس طرح جا سکتا ہے جس طرح کسی کوٹھی میں ماشکی‘ دھوبی‘ خاکروب جا تا ہے۔‘‘

‘‘
 
Top