فرمودات مسیح الا مّت

احمدقاسمی

منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ
Staff member
منتظم اعلی
اَلَحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعٰلَمیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْ سَلِیْنَ عَلیٰ آلِہٖ وَاصْحَابِہٖ اَجْمَعَیْنَ ۔
اللہ کے نیک بندوں کے دل محض انوارِ الٰہی ہو تے ہیں۔ ان کی مجلسیں عرفانِ حقیقت اور فیضانِ محبت کی مروارید سے تابندہ ہو تی ہیں ان کی ذات مرجع خلائق اور ان کا طرزِ عمل اسوہ نبویؐ کا پر تو ہو تا ہے ان کی دنیا استعنیٰ کی دنیا، ان کی دولت ایمان ویقین کی دولت ، اعلاء کلمۃ اللہ ان کا مقصد اور خدمتِ خلق ان کا شیوہ ہو تا ہے۔
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل وپاکباز​
کی صحیح تصویر ہو تے ہیں ۔حوادث کے تیز تند جھونکے ان کے پائے ثبات کو بھی متزلزل نہیںکرسکتے ، ماحول کی برہمی اور حالات کی ناساز گاری سے کبھی وہ کبیدہ خاطر نہیں ہوتے ، زمانے کی خونخوار نگاہیں ان کی راہوں میں سدِّ آہن نہیں بنتی، وہ ہمیشہ نڈر ہو کر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر اعتماد کرتے ہو ئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
ہوا ہے گو تند وتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیا ہے اندازِ خسروانہ​

محب الامت عارف با للہ حضرت اہل اللہ صاحب دامت برکاتہم۔ انھیںکاملین میں سے ہیں ۔جنھیں قدرت کے فیاض ہاتھوں سے علم ومعرفت وآگہی توکل واعتماد، ایثاروقربانی، جانبازی وجاں سپاری، اولو العزمی رحمدلی ، محبت اور خدمتِ خلق کا بھر پور حصہ ملا ہے آپ کی ذات اس ظلمت کدۂ گیتی میں روشن چراغ کے مثل ہے ۔ حقیقت میں اہلِ دل کے کلام میں جوغیر معمولی حلاوت اور دل میں قوت ہے وہ ان کی روح کی لطافت وقلب کی پا کیز گی اور اندرونی کیفیت وسر مر متی کا نتیجہ ہے اور اس کے لئے وہ کسی خارجی مدد اور مقام یا وقت کے محتاج نہیں ہوتے ، ان کی خوشی وسر متی کا سر چشمہ اور ان کی دولت کا خزانہ ان کے دل میں ہو تا ہے خواجہ میر درد نے جو خود صاحبِ دل اور صاحب ِ
درد تھے اس پورے گروہ کی ترجمانی اس شعر میں کی ہے۔
جائیے کس واسطے اے درد میخانے کے بیچ
کچھ عجب مستی ہے اپنے دل کے پیمانے کے بیچ​
آپ کی مبارک مجلس میں بہت ہی کم حاضری کا موقع ملا ۔اس مختصر صحبت ہی میں ایسا سکون وسرور حاصل ہوا بندہ اس کیفیت کو بیان کرنے سے قاصر ہے ۔لیکن عاجز نے آپ کی مجلس میں ذوق وشوق کیف ومستی اور وجدانی کیفیات کا غلبہ طاری پایا۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ آپ شب وروز محبت وعقیدت کے دریا میں غوطہ زن رہتے ہیں شیخِ طریقت حضرت اقدس شاہ محمد مسیح اللہ خان صاحب ؒکی محبت ، روح وقلب پر اس انداز سے چھائی رہتی ہے کہ کبھی حضرت تھانویؒ کے ارشادات اور کبھی حضرت مسیح الامتؒ کے ارشاداتِ عالیہ سے بات شروع کرتے ہیں آپ کے مریدین ومعتقدین ایسی محویت سے سنتے ہیںگویا یہ آپ کے شیخ محترمؒیاحضرت تھانویؒ ہی کی مبارک مجلس ہے ۔
 
Top