جب حکمراں وہی کھانا کھاتے تھے جو عام باشندے کھاتے ہوں

  • موضوع کا آغاز کرنے والا قاسمی
  • تاریخ آغاز
ق

قاسمی

خوش آمدید
مہمان گرامی
جب حکمراں وہی کھانا کھاتے تھے جو عام باشندے کھاتے ہوں​
حضرت عتبہ بن فرقدؓ نے آذر بائیجان کی مہم ختم کر نے کے بعد فاتحانہ انداز میں انتظام سنبھالا وہاں کا ایک قسم کا حلوہ بہت مشہو ر تھا اور تحفتًا ہدیہ میں بہت دور دور تک جایا کر تا تھا ۔حضرت عتبہ نے بھی اس حلو ے کے دو ڈبے پیک کرا کے اپنے ملازم خاص سحیم کے ذریعہ حضرت عمر ؒ کی خدمت میں روانہ کئے ۔جب یہ تحفہ دربار، خلافت میں پہنچا اور حضرت عمرؓ کو خبر ملی تو سحیم سے دریافت کیا کہ ان میں کیا لائے ہو سونا یا چاندی؟ اور پھر ان کو کھولنے کا حکم دیا اور پھر حلوہ چکھ کر فرمایا ہاں یہ بہت عمدہ غذا ہے آذر بائیجان میں جو مسلمان اپنے بال بچے اور گھر بار چھوڑ کر ہیں وہ کھانا کھانے کے بعد اس حلوہ کو کھائیں گے تو خوب شکم سیر ہو جائیں گے ان تاثرات کو معلوم کر کے سحیم نے عرض کیا یہ بات نہیں بلکہ یہ حلوہ خاص طور سے آپ کیلئے بھیجا گیا ہے یہ سننا تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل پر ایک خاص قسم کا اثرہوا اور فوراً عتبہ بن فرقدؓ کے نام ایک خط روانہ کیا ۔
عن عبد اللہ عمر امیر المؤمنین الیٰ عتبہ بن فرقد اما بعد۔ فلیس من قدک،ولا کدامک لا کد ابیک ۔لا تا کل الا ما یشبع منہ المسلمون فی رحالھم (فتوح البلدان)
اللہ کے بندے اور مسلمانوں کے امیر کی طرف سے عتبہ بن فرقد کے نام اما بعد! جو حلوہ تم نے بھیجا ہے وہ نہ تمھاری کمائی کا ہ اور نہ تمھاری ماں کی کمائی کا ہے اور نہ تمھارے پاپ کی کمائی کا ہے ہم صرف وہی کھانا کھاتے ہیں جس سے وہاں کے مسلمان اپنے خیموں میں شکم سیر ہو تے ہیں۔
[/size[/color]]
 
Top